ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے

Muhammad Adeel Roshan
0

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے



ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے 
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے     


تشریح


اقبال کی یہ شاعری ایک عمیق حقیقت کو بیان کرتی ہے جو زندگی کی مختلف مراحل اور حالات کو مد نظر رکھتی ہے۔


ہزاروں خواہشیں ایسی: یہ مصرع اظہار کرتا ہے کہ انسان کی زندگی میں ہزاروں خواہشیں ہوتی ہیں، جو مختلف شعبوں میں مشغول ہوتی ہیں۔


ہر خواہش پر دم نکلے: یہاں اقبال ہر خواہش کو پورا کرنا مشکل ہوتا ہے، اور اس مصرع سے اظہار ہوتا ہے کہ زندگی میں ہر مقام اور ہر مقصد تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا۔


بہت نکلے میرے ارمان:اقبال یہاں بتاتے ہیں کہ ان کے دل میں بہت سے ارمان ہیں، یعنی مختلف خواہشیں اور مقاصد ہیں جو ان کی زندگی کو بھرتے ہیں۔


لیکن پھر بھی کم نکلے: یہاں مصرع میں اظہار ہوتا ہے کہ حاصل ہونے والے ارمان میں ہر بار کچھ نہ کچھ کمی ہوتی ہے۔ حتی کہ ارمانات پوری ہوتی ہیں، ان کی کمی محسوس ہوتی ہے جو اظہار کرتا ہے کہ زندگی میں مکملیت کا مفہوم ہونا ممکن نہیں ہے۔


یہ شاعری اقبال کی فلسفہ زندگی کو بیان کرتی ہے، جہاں وہ ہمیشہ کمال کی طلب میں مصروف رہتے ہیں مگر حقیقتاً مکملیت حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ نیا مقام حاصل کرنے کی طلب میں مصروف رہنا چاہئے۔


The End

:نوٹ

کمینٹ میں ہم آ پ کی رائے کے منتظر ہیں۔

Post a Comment

0Comments

Available Life Quotes, Love Quotes, Positive Quotes, Success Quotes, Daily Quotes, Famous Quotes Friendship Quotes Wisdom Quotes All in one in Urdu - Muhammad Adeel Roshan
- Motivational quotes
- Inspirational quotes
- Urdu quotes
- Fear of failure
- Self-doubt
- Positive thinking
- Self-confidence
- Overcoming challenges
- Life lessons

Post a Comment (0)